" پتر !، تو کھاسیں تاں میڈے ہاں نال لگسی !"
ایک دن
اپنے مرحوم بھائی کے دوست
شیرزمان کی شادی پر،
موسی خیل کے قریب جانا ہوا۔۔
اپنے مرحوم بھائی کے دوست
شیرزمان کی شادی پر،
موسی خیل کے قریب جانا ہوا۔۔
وہ ہر سال
عید پر ہمارے گھر آتا ہے،
میری ماں کو ملتا ہے
اور چپ چاپ بیٹھ جاتا ہے۔۔
عید پر ہمارے گھر آتا ہے،
میری ماں کو ملتا ہے
اور چپ چاپ بیٹھ جاتا ہے۔۔
وہ میرے
مرحوم بھائی کے سارے دوستوں میں سے،
سب سے زیادہ غریب، سب سے زیادہ سادہ اور سب سے زیادہ وفادار دوست ہے۔۔
مرحوم بھائی کے سارے دوستوں میں سے،
سب سے زیادہ غریب، سب سے زیادہ سادہ اور سب سے زیادہ وفادار دوست ہے۔۔
خبر نہیں،
گل کی قبر پر
ہر سال بیٹھ کر
اس سے کیا باتیں کرتا رہتا ہے !
گل کی قبر پر
ہر سال بیٹھ کر
اس سے کیا باتیں کرتا رہتا ہے !
میری ماں بھی
اسے گل حمید کا پرچھاواں سمجھ کر
اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتی ہیں۔۔
اسے گل حمید کا پرچھاواں سمجھ کر
اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتی ہیں۔۔
موسی خیل پہنچے تو
اماں سے گزارش کی کہ
عمران
پلاو(دکھی والا پلاو) خوب بناتا ہے۔۔
اجازت ہو تو
تھوڑے سے چاول کھا لیں !
اماں سے گزارش کی کہ
عمران
پلاو(دکھی والا پلاو) خوب بناتا ہے۔۔
اجازت ہو تو
تھوڑے سے چاول کھا لیں !
انھوں نے
ہاں میں سر ہلا دیا۔۔
ہاں میں سر ہلا دیا۔۔
چاول آ گئے
اور ہم دونوں ماں بیٹا چاول کھانے لگے۔۔
اور ہم دونوں ماں بیٹا چاول کھانے لگے۔۔
چونکہ میں
عمران کو اپنے گاہکوں سے برتاو کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا،
اس لیے
اچانک اپنی پلیٹ پر نظر پڑی تو
اس میں بوٹیاں معمول سے کہیں زیادہ لگیں۔۔
عمران کو اپنے گاہکوں سے برتاو کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا،
اس لیے
اچانک اپنی پلیٹ پر نظر پڑی تو
اس میں بوٹیاں معمول سے کہیں زیادہ لگیں۔۔
اماں کی پلیٹ دیکھی تو
اس میں بوٹیاں نہیں تھیں۔۔
اس میں بوٹیاں نہیں تھیں۔۔
میں نے
اماں جان سے پوچھا !
اماں جان سے پوچھا !
آپ نے ایسا کیوں کیا ؟؟
آپ کو بوٹیاں اچھی نہیں لگتیں !!
آپ کو بوٹیاں اچھی نہیں لگتیں !!
وہ بولیں۔۔
بیٹا ! مجھے بوٹیاں بہت اچھی لگتی ہیں،
لیکن یہ بوٹیاں تم کھاو گے تو
میڈے ہاں نال لگسن(سمجھوں گی، میں نے کھا لی ہیں)۔
بیٹا ! مجھے بوٹیاں بہت اچھی لگتی ہیں،
لیکن یہ بوٹیاں تم کھاو گے تو
میڈے ہاں نال لگسن(سمجھوں گی، میں نے کھا لی ہیں)۔
میں
ان کا چہرہ دیکھتا رہا
اور سوچتا رہا کہ
اللہ عزوجل اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
جو مقام ماں کو دے دیا ہے،
اس کے پیچھے
ماں کا اپنی اولاد کے لیے
یہی بےمثال ایثار روز روشن کی طرح عیاں ہے۔۔
ان کا چہرہ دیکھتا رہا
اور سوچتا رہا کہ
اللہ عزوجل اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
جو مقام ماں کو دے دیا ہے،
اس کے پیچھے
ماں کا اپنی اولاد کے لیے
یہی بےمثال ایثار روز روشن کی طرح عیاں ہے۔۔
دعا ہے۔۔
رب کعبہ
ہم سب کو
اپنے والدین کی لازوال محبت میں گرفتار فرما لے، آمین۔۔
رب کعبہ
ہم سب کو
اپنے والدین کی لازوال محبت میں گرفتار فرما لے، آمین۔۔
_____ موساز _____

Comments
Post a Comment