" یہ انتظار ہے یا زندگی سے فرار ہے !"
موسی
ایک ہوٹل پہ بیٹھا لڈو کھیل رہا تھا۔۔
ایک ہوٹل پہ بیٹھا لڈو کھیل رہا تھا۔۔
اسے
میٹرک کیے ہوئے 3 سال ہو چکے تھے۔۔
اس کے ساتھ
عیسی خان، شیرخان
اور عیسب خان بھی لڈو کھیل رہے تھے۔۔
وہ سب بھی
کافی سال پہلے
ایف اے، بی اے کر چکے تھے۔۔
میٹرک کیے ہوئے 3 سال ہو چکے تھے۔۔
اس کے ساتھ
عیسی خان، شیرخان
اور عیسب خان بھی لڈو کھیل رہے تھے۔۔
وہ سب بھی
کافی سال پہلے
ایف اے، بی اے کر چکے تھے۔۔
موسی سے
جو بھی پوچھتا کہ
آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے تو
وہ کہتا۔۔
بابا جان نے،
فلاں ایم این اے، فلاں ایم پی اے، فلاں کرنل اور فلاں ڈی ایچ او کو میری سند اور ڈومیسائل دیے ہوئے ہیں۔۔
بہت جلد
کہیں نہ کہیں سے ملازمت کی کال آ جائے گی۔۔
جو بھی پوچھتا کہ
آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے تو
وہ کہتا۔۔
بابا جان نے،
فلاں ایم این اے، فلاں ایم پی اے، فلاں کرنل اور فلاں ڈی ایچ او کو میری سند اور ڈومیسائل دیے ہوئے ہیں۔۔
بہت جلد
کہیں نہ کہیں سے ملازمت کی کال آ جائے گی۔۔
اس کے
ماں باپ بھی
اسی امید پر قائم تھے،
اس لیے
سب گھر والے
اب موسی کو چند دنوں کا مہمان سمجھ کر
خوب مہان نوازی کیا کرتے تھے کہ
کیا پتہ
کب ملازمت مل جائے اور ان کا بیٹا مسافر ہو جائے۔۔
ماں باپ بھی
اسی امید پر قائم تھے،
اس لیے
سب گھر والے
اب موسی کو چند دنوں کا مہمان سمجھ کر
خوب مہان نوازی کیا کرتے تھے کہ
کیا پتہ
کب ملازمت مل جائے اور ان کا بیٹا مسافر ہو جائے۔۔
موسی
اور اس جیسے ہزاروں نوجوان
کئی سالوں سے
ایسے ہی انتظار سے گزر رہے تھے
اور اپنی زندگی کی قیمتی ترین دن
ہوٹلوں، بیٹھکوں، پارکوں میں بیٹھ بیٹھ کر گزار رہے تھے
اور
کئی تو اب تک اوورایج بھی ہو چکے تھے۔۔
اور اس جیسے ہزاروں نوجوان
کئی سالوں سے
ایسے ہی انتظار سے گزر رہے تھے
اور اپنی زندگی کی قیمتی ترین دن
ہوٹلوں، بیٹھکوں، پارکوں میں بیٹھ بیٹھ کر گزار رہے تھے
اور
کئی تو اب تک اوورایج بھی ہو چکے تھے۔۔
موسی
اس زندگی سے
فرار والے انتظار سے
اکتا چکا تھا۔۔
اس زندگی سے
فرار والے انتظار سے
اکتا چکا تھا۔۔
اس لیے اس نے
چائے کا ایک کھوکھا بنا لیا،
رب ذوالجلال کو اپنا دوست بنا لیا،
اور اپنے زور بازو پر بھروسہ کر لیا۔۔
چائے کا ایک کھوکھا بنا لیا،
رب ذوالجلال کو اپنا دوست بنا لیا،
اور اپنے زور بازو پر بھروسہ کر لیا۔۔
اب اسے
کسی
ایم این اے، ایم پی اے، کسی کرنل، کسی ڈی ایچ او کی مہربانی کا انتظار نہیں رہتا تھا۔۔
کسی
ایم این اے، ایم پی اے، کسی کرنل، کسی ڈی ایچ او کی مہربانی کا انتظار نہیں رہتا تھا۔۔
_____ موساز _____

Comments
Post a Comment