- Get link
- X
- Other Apps
وہ عجیب سی شام تھی بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں سگرٹ ہونٹوں تک آیا ۔۔۔ پلکیں بھنچ گئیں۔۔۔ ماتھے کی افقی لکیریں آفاقی ہو گئیں۔۔۔ ساون* بھی برس رہا تھا۔۔۔ دھویں کے بادل فضا میں بکھیرتے اس درویش کی آواز گونجی۔۔۔ "میرے بہت سے بزرگ دوست تھے۔۔۔ بزرگوں کی دوستی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، میں ۔۔اور ارشد وٹو لائبریریاں گھنگالتے۔۔۔ کتابیں پڑھتے ۔۔۔اچھے لکھنے والوں سے ملتے ۔۔ میرے بہت سے دوست عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے پھر میں نے زیادہ عمر کے لوگوں سے دوستیاں ترک کر دیں" یہ کہتے ہوئے درویش کی آنکھوں میں نمی اتر آئی قبل اس کے کہ میں پوچھتا کہ۔۔۔کیوں ترک کیں دوستیاں۔۔۔ درویش کی آواز نے لمحاتی سناٹے کو توڑا۔۔ ہمممممم۔۔۔۔ وہ مر جاتے تھے۔۔۔ بزرگ دوست مر جاتے تو میں بھی مر جاتا تھا ۔۔۔ پھر میں نے صرف نوجوانوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کیا۔۔۔ وہ اذیت سہنا ۔۔۔ بہت کرب انگیز تھا "شاکر ،تم سمجھ رہے ہو نا؟" جی جی۔۔۔ جی بھائی۔۔۔ کالاباغ میں کوٹ چاندنہ کی سمت بڑھتے رستے پہ ایک عام سے ریسٹورنٹ کے کشادہ کمرے میں اس درویش نے اتنی باتیں ۔۔ خلوص کا ریپر کر کے میری ذہن کی جھولی میں پھین...

Comments
Post a Comment