Skip to main content

" موساز کارواں، آج پکی شاہمرداں !"
الحمدللہ !
سردیوں کی چھٹیوں کے بعد
آج گورنمنٹ ہائی سکول پکی شاہمردان میں،
پاکستان کے اجلے چہرے دیکھنے کا موقع ملا۔۔
یہ وہی گورنمنٹ سکول ہے،
جہاں سے
مرحوم سید عطا محمد شاہ صاحب ریٹائر ہوئے تھے
اور
پھر انھوں نے
اپنے ایک پرائیویٹ ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔۔
گورنمنٹ ہائی سکول پکی شاہمردان
اب تک مندرجہ ذیل
امتیازی سرٹیفیکیٹس حاصل کر چکا ہے،
جو
جناب ہیڈماسٹر جاوید اقبال ملک صاحب
اور انکی ٹیم کی لگن اور خلوص کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔۔
1- ڈسٹرکٹ سٹار ہائی سکول۔۔
2- ڈسٹرکٹ سٹار ہیڈ ماسٹر(جاوید اقبال ملک صاحب)۔۔
3- ڈسٹرکٹ سٹار ٹیچر(غلام عباس رجائی صاحب)۔۔
4- ڈسٹرکٹ بیسٹ پرفارمر سکول۔۔
5- ساڑھے بارہ سو(1250) سٹوڈینٹس۔۔
سارے اساتذہ کرام کو
خوب خراج تحسین پیش کرنے کے بعد
اپنے مستقبل کے معماروں تک موساز کا پیغام پہنچایا
اور
انھیں
اپنے ماں باپ، اساتذہ کرام اور ملک و قوم کے لیے
باعث فخر بننے کی دعائیں دیں۔۔
اپنی قوم کے
ان معصوم بچوں تک
مرحوم سید عطا محمد شاہ صاحب کی
وہ امانت پہنچائی،
جو انھوں نے
مجھے 23 سال پہلے
اللہ عزوجل کے فضل سے عطا کی تھی۔۔
(ایک معلم کا فیض۔۔۔
23 سال پہلے
جب اسی شہر میں آیا تھا تو گمنام میٹرک فیل لکڑہارا تھا،
23 سال بعد
جب اسی شہر میں آیا ہوں تو ہزاروں دلوں کی دھڑکن ہوں، الحمداللہ۔)
دعا ہے۔۔
ہم سب
جب تک زندہ رہیں، دوسروں کے لیے مفید رہیں، آمین۔۔
فوٹو گرافی :- پروفیسر شاکر خان الصفحہ کالج
ملک ثمر عباس میانوالی ہوم ٹاون
_____ موساز _____

Comments

Popular posts from this blog

وہ عجیب سی شام تھی

وہ عجیب سی شام تھی بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں سگرٹ ہونٹوں تک آیا ۔۔۔ پلکیں بھنچ گئیں۔۔۔ ماتھے کی افقی لکیریں آفاقی ہو گئیں۔۔۔ ساون* بھی برس رہا تھا۔۔۔ دھویں کے بادل فضا میں بکھیرتے اس درویش کی آواز گونجی۔۔۔ "میرے بہت سے بزرگ دوست تھے۔۔۔ بزرگوں کی دوستی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، میں ۔۔اور ارشد وٹو لائبریریاں گھنگالتے۔۔۔ کتابیں پڑھتے ۔۔۔اچھے لکھنے والوں سے ملتے ۔۔ میرے بہت سے دوست عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے پھر میں نے زیادہ عمر کے لوگوں سے دوستیاں ترک کر دیں" یہ کہتے ہوئے درویش کی آنکھوں میں نمی اتر آئی قبل اس کے کہ میں پوچھتا کہ۔۔۔کیوں ترک کیں دوستیاں۔۔۔ درویش کی آواز نے لمحاتی سناٹے کو توڑا۔۔ ہمممممم۔۔۔۔ وہ مر جاتے تھے۔۔۔ بزرگ دوست مر جاتے تو میں بھی مر جاتا تھا ۔۔۔ پھر میں نے صرف نوجوانوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کیا۔۔۔ وہ اذیت سہنا ۔۔۔ بہت کرب انگیز تھا "شاکر ،تم سمجھ رہے ہو نا؟" جی جی۔۔۔ جی بھائی۔۔۔ کالاباغ میں کوٹ چاندنہ کی سمت بڑھتے رستے پہ ایک عام سے ریسٹورنٹ کے کشادہ کمرے میں اس درویش نے اتنی باتیں ۔۔ خلوص کا ریپر کر کے میری ذہن کی جھولی میں پھین...

وسیب کے رنگوں میں رنگے سرائیکی وسیب

 #ماہرتعلیم_پروفیسرسرورنیازی_کا_اردو_ناول_کچہ_اشاعت_کے_آخری_مراحل_میں پروفیسرسرور خان نیازی کا شمار شعبہ تعلیم میں میانوالی کے نامور اہل علم اور بزرگ اساتذہ میں ہوتا ہے جو اپنی سادہ طبیعت، علم و ہنر سے وابستگی اور اعلی ذوق کی وجہ سے شعبہ تعلیم میں نمایاں مقام رکھتے ہیں وہیں باذوق طبیعت کے مالک اور اچھے مصنف اور رائٹرہیں جو سرائیکی وسیب اور میانوالی کی ثقافت سے والہانہ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں جس کا اظہار وہ اپنے جلد آنے والے اردو ناول " کچہ" جو کہ طباعت کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے میں خوبصورت انداز میں کرتے ہیں ان کا اردو ناول "کچہ" جلد ہی طباعت کے مراحل سے ہو کر میانوالی اور بھکر کی علاقہ کچہ کی ثقافت کا امین یہ شہکار ناول وسیب سے عقیدت و محبت کرنے والے عشاق کے دلوں کو منور کرنے کے لیے ان کے ہاتھوں میں ہو گا اس ناول کی کہانی احاطہ کرتی ہے ان خاندانوں کا جو چشمہ بیراج کی تعمیر کے ہاتھوں اجڑے اور غم کی دستان ہے ان بچھڑے خاندانوں کی جو ہنستے بستے گھروکو چھوڑ کر دور دیسوں کے باسی ٹھہرے ذکر ہے ان کچہ کے وانڈوں دیہاتوں کا جہاں کبھی خوشیاں رقص کرتیں تھی مگر اب داست...

میانوالی ہمارے شہر میں کل پھر کئی قتل ہو گئے.

میانوالی ہمارے شہر میں کل پھر کئی قتل ہو گئے, کئی ماؤں کے کلیجے پھٹ گئے, کئی بہنوں کے کلیجے چھلنی ہو گئے… جس نے بھی دنیا میں ایسی ” غیرت ” کی داغ بیل ڈالی تھی, اس ” بےغیرت ” پر بےشمار لعنت بھیجنی چاہیے… ایسی گھٹیا "غیرت” کی نشانیاں۔۔۔ دشمنیوں سے اٹے ضلع میانوالی کی معروف شخصیت ڈاکٹر حنیف نیازی اپنی ایک خصوصی تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔1_میں کسی کو راستہ نہ دوں, وہ ہارن بجاۓ تو میں اس پر ناراض ہو جاؤں, وہ کچھ بولے تو میں بپھر جاؤں اور اسے قتل کر دوں… 2_میں کسی ٹول پلازہ سے ٹیکس دیئے بغیر گزر جاؤں, وہ مجھے روکیں اور ٹوکیں تو مجھے غیرت آ جاۓ اور میں ان پر فائر کھول دوں… 3_میں کسی سے مذاق کروں, وہ مجھے مذاق کرنے سے روکے تو میں اسے مارنا شروع کردوں۔۔ اور اگر وہ صابر شاکر ہو کر میری مار نہ کھاۓ, تو میں اسے چھری مار دوں… 4_میں کسی کی بہن، بیٹی یا بیٹے کو تنگ کروں, وہ میری منت سماجت کریں, مجھے برا لگے اور میں ان کا خون کر دوں… 5_میں کسی کے کھیت کا پانی توڑ لوں, وہ مجھ سے باز پرس کرے تو میں آگ بگولہ ہو کر 12 بور کا فائر کھول دوں…وغیرہ وغیرہ حد ہے !اسی "گھٹیا غیرت” نے ہمارے ضلع کو ...