#ماہرتعلیم_پروفیسرسرورنیازی_کا_اردو_ناول_کچہ_اشاعت_کے_آخری_مراحل_میں
پروفیسرسرور خان نیازی کا شمار شعبہ تعلیم میں میانوالی کے نامور اہل علم اور بزرگ اساتذہ میں ہوتا ہے جو اپنی سادہ طبیعت، علم و ہنر سے وابستگی اور اعلی ذوق کی وجہ سے شعبہ تعلیم میں نمایاں مقام رکھتے ہیں وہیں باذوق طبیعت کے مالک اور اچھے مصنف اور رائٹرہیں جو سرائیکی وسیب اور میانوالی کی ثقافت سے والہانہ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں جس کا اظہار وہ اپنے جلد آنے والے اردو ناول
" کچہ" جو کہ طباعت کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے میں خوبصورت انداز میں کرتے ہیں ان کا اردو ناول "کچہ" جلد ہی طباعت کے مراحل سے ہو کر میانوالی اور بھکر کی علاقہ کچہ کی ثقافت کا امین یہ شہکار ناول وسیب سے عقیدت و محبت کرنے والے عشاق کے دلوں کو منور کرنے کے لیے ان کے ہاتھوں میں ہو گا اس ناول کی کہانی احاطہ کرتی ہے ان خاندانوں کا جو چشمہ بیراج کی تعمیر کے ہاتھوں اجڑے اور غم کی دستان ہے ان بچھڑے خاندانوں کی جو ہنستے بستے گھروکو چھوڑ کر دور دیسوں کے باسی ٹھہرے ذکر ہے ان کچہ کے وانڈوں دیہاتوں کا جہاں کبھی خوشیاں رقص کرتیں تھی مگر اب داستان غم ہے حسین لمحات اور وسیب کے رنگوں میں رنگے سرائیکی وسیب کے گھبرو اور وسیب کی ناریاں اپنے مخصوص پس منظر سرائیکی کلچر سے جڑے روایات کے تانوں بانوں کے ساتھ جلوگر ہیں تو پرانے کردار اور روایات کی پاسداری اور پرانے علاقائی رسم و رواج کی عکاس بھی ناول نہ صرف کچہ کے اجڑے نقش بلکہ پورے پاکستان اور محروم انسانوں کی کہانی ہے اس میں انسانی فطرت کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے ، فیاضی، مہمانِ نوازی بے باکی اور ایثار و قربانی کی رقم کردہ حقائق اور سچ کی داستان جو رلائے گی بھی ہنسائے گی بھی اور ہر فرد میں ہر طرح کا کردار احسن انداز میں اپنا کردار نبھاتا نظر بھی آئے گا جس میں سرائیکی وسیب کی چلتی پھرتی جیتی جاگتی ََ
زندگی نظر آئے گی

Comments
Post a Comment