وہ عجیب سی شام تھیبائیں ہاتھ کی انگلیوں میں سگرٹ ہونٹوں تک آیا ۔۔۔ پلکیں بھنچ گئیں۔۔۔
ماتھے کی افقی لکیریں آفاقی ہو گئیں۔۔۔
ساون* بھی برس رہا تھا۔۔۔
ماتھے کی افقی لکیریں آفاقی ہو گئیں۔۔۔
ساون* بھی برس رہا تھا۔۔۔
دھویں کے بادل فضا میں بکھیرتے اس درویش کی آواز گونجی۔۔۔
"میرے بہت سے بزرگ دوست تھے۔۔۔
بزرگوں کی دوستی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، میں ۔۔اور ارشد وٹو لائبریریاں گھنگالتے۔۔۔ کتابیں پڑھتے ۔۔۔اچھے لکھنے والوں سے ملتے ۔۔
میرے بہت سے دوست عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے
"میرے بہت سے بزرگ دوست تھے۔۔۔
بزرگوں کی دوستی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، میں ۔۔اور ارشد وٹو لائبریریاں گھنگالتے۔۔۔ کتابیں پڑھتے ۔۔۔اچھے لکھنے والوں سے ملتے ۔۔
میرے بہت سے دوست عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے
پھر میں نے زیادہ عمر کے لوگوں سے دوستیاں ترک کر دیں"
یہ کہتے ہوئے درویش کی آنکھوں میں نمی اتر آئی
قبل اس کے کہ میں پوچھتا کہ۔۔۔کیوں ترک کیں دوستیاں۔۔۔
درویش کی آواز نے لمحاتی سناٹے کو توڑا۔۔
قبل اس کے کہ میں پوچھتا کہ۔۔۔کیوں ترک کیں دوستیاں۔۔۔
درویش کی آواز نے لمحاتی سناٹے کو توڑا۔۔
ہمممممم۔۔۔۔
وہ مر جاتے تھے۔۔۔
بزرگ دوست مر جاتے تو میں بھی مر جاتا تھا
۔۔۔
پھر میں نے صرف نوجوانوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کیا۔۔۔
وہ اذیت سہنا ۔۔۔ بہت کرب انگیز تھا
وہ مر جاتے تھے۔۔۔
بزرگ دوست مر جاتے تو میں بھی مر جاتا تھا
۔۔۔
پھر میں نے صرف نوجوانوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کیا۔۔۔
وہ اذیت سہنا ۔۔۔ بہت کرب انگیز تھا
"شاکر ،تم سمجھ رہے ہو نا؟"
جی جی۔۔۔ جی بھائی۔۔۔
کالاباغ میں کوٹ چاندنہ کی سمت بڑھتے رستے پہ ایک عام سے ریسٹورنٹ کے کشادہ کمرے میں اس درویش نے اتنی باتیں ۔۔ خلوص کا ریپر کر کے میری ذہن کی جھولی میں پھینک دیں۔۔۔ کہ سرشاری ابھی تک قائم ہے ۔۔۔
حضرت جعفر طاہر کا شعر
اپنے درویش ۔۔۔ احمد خلیل جازم کے نام
حضرت جعفر طاہر کا شعر
اپنے درویش ۔۔۔ احمد خلیل جازم کے نام
دم زناں مست ہمہ دم تننا ہو یا ہو
کوئی رت ہو کوئی موسم، تننا ہو، یا ہو
کوئی رت ہو کوئی موسم، تننا ہو، یا ہو
*ساون شبیر
تصویر میں خاکسار کو ڈاکٹر حنیف نیازی، ساون شبیر اور حضرت احمد خلیل جازم کے برابر کھڑے ہونے کا اعزاز نصیب ہوا۔۔۔
تصویر میں خاکسار کو ڈاکٹر حنیف نیازی، ساون شبیر اور حضرت احمد خلیل جازم کے برابر کھڑے ہونے کا اعزاز نصیب ہوا۔۔۔

Comments
Post a Comment