Skip to main content




" اے پروردگار ! میں تجھ سے راضی ہوں !"
ایک ادنی ترین
اور کمزور ترین مسلمان ہونے کے ناطے،
پروردگار عالم سے
میں خوب راضی ہوں کیونکہ
جتنا
اس نے
مجھے عطا کیا ہوا ہے، اتنی میری اوقات نہیں ہے۔۔
دعا ہے۔۔
رب العالمین
ہم سب کو
ایسا بنائے رکھے کہ
اس کے
پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند آ جائیں،
اس کے بندوں کو پسند آ جائیں
اور
اس کی مخلوقات کے لیے خیر کا باعث بن جائیں۔۔
اے پروردگار !
ہم سب کے پردے سلامت رکھنا،
ہمارے خیرخواہوں میں اضافہ کرتے رہنا،
ہمارے احباب میں اضافہ کرتے رہنا،
ہمارے دشمنوں میں گھاٹا کرتے رہنا،
اور
ہمیں اپنے والدین و اساتذہ کرام و ملک و قوم کے لیے
مفید بنائے رکھنا، آمین یا رب العالمین۔۔
یہ تصویر
ان ہستیوں کے ساتھ ہے
جن کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کی دعائیں
ہردم کرتا رہتا ہوں۔۔
_____ موساز _____

Comments

Popular posts from this blog

وہ عجیب سی شام تھی

وہ عجیب سی شام تھی بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں سگرٹ ہونٹوں تک آیا ۔۔۔ پلکیں بھنچ گئیں۔۔۔ ماتھے کی افقی لکیریں آفاقی ہو گئیں۔۔۔ ساون* بھی برس رہا تھا۔۔۔ دھویں کے بادل فضا میں بکھیرتے اس درویش کی آواز گونجی۔۔۔ "میرے بہت سے بزرگ دوست تھے۔۔۔ بزرگوں کی دوستی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، میں ۔۔اور ارشد وٹو لائبریریاں گھنگالتے۔۔۔ کتابیں پڑھتے ۔۔۔اچھے لکھنے والوں سے ملتے ۔۔ میرے بہت سے دوست عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے پھر میں نے زیادہ عمر کے لوگوں سے دوستیاں ترک کر دیں" یہ کہتے ہوئے درویش کی آنکھوں میں نمی اتر آئی قبل اس کے کہ میں پوچھتا کہ۔۔۔کیوں ترک کیں دوستیاں۔۔۔ درویش کی آواز نے لمحاتی سناٹے کو توڑا۔۔ ہمممممم۔۔۔۔ وہ مر جاتے تھے۔۔۔ بزرگ دوست مر جاتے تو میں بھی مر جاتا تھا ۔۔۔ پھر میں نے صرف نوجوانوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کیا۔۔۔ وہ اذیت سہنا ۔۔۔ بہت کرب انگیز تھا "شاکر ،تم سمجھ رہے ہو نا؟" جی جی۔۔۔ جی بھائی۔۔۔ کالاباغ میں کوٹ چاندنہ کی سمت بڑھتے رستے پہ ایک عام سے ریسٹورنٹ کے کشادہ کمرے میں اس درویش نے اتنی باتیں ۔۔ خلوص کا ریپر کر کے میری ذہن کی جھولی میں پھین...

وسیب کے رنگوں میں رنگے سرائیکی وسیب

 #ماہرتعلیم_پروفیسرسرورنیازی_کا_اردو_ناول_کچہ_اشاعت_کے_آخری_مراحل_میں پروفیسرسرور خان نیازی کا شمار شعبہ تعلیم میں میانوالی کے نامور اہل علم اور بزرگ اساتذہ میں ہوتا ہے جو اپنی سادہ طبیعت، علم و ہنر سے وابستگی اور اعلی ذوق کی وجہ سے شعبہ تعلیم میں نمایاں مقام رکھتے ہیں وہیں باذوق طبیعت کے مالک اور اچھے مصنف اور رائٹرہیں جو سرائیکی وسیب اور میانوالی کی ثقافت سے والہانہ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں جس کا اظہار وہ اپنے جلد آنے والے اردو ناول " کچہ" جو کہ طباعت کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے میں خوبصورت انداز میں کرتے ہیں ان کا اردو ناول "کچہ" جلد ہی طباعت کے مراحل سے ہو کر میانوالی اور بھکر کی علاقہ کچہ کی ثقافت کا امین یہ شہکار ناول وسیب سے عقیدت و محبت کرنے والے عشاق کے دلوں کو منور کرنے کے لیے ان کے ہاتھوں میں ہو گا اس ناول کی کہانی احاطہ کرتی ہے ان خاندانوں کا جو چشمہ بیراج کی تعمیر کے ہاتھوں اجڑے اور غم کی دستان ہے ان بچھڑے خاندانوں کی جو ہنستے بستے گھروکو چھوڑ کر دور دیسوں کے باسی ٹھہرے ذکر ہے ان کچہ کے وانڈوں دیہاتوں کا جہاں کبھی خوشیاں رقص کرتیں تھی مگر اب داست...

میانوالی ہمارے شہر میں کل پھر کئی قتل ہو گئے.

میانوالی ہمارے شہر میں کل پھر کئی قتل ہو گئے, کئی ماؤں کے کلیجے پھٹ گئے, کئی بہنوں کے کلیجے چھلنی ہو گئے… جس نے بھی دنیا میں ایسی ” غیرت ” کی داغ بیل ڈالی تھی, اس ” بےغیرت ” پر بےشمار لعنت بھیجنی چاہیے… ایسی گھٹیا "غیرت” کی نشانیاں۔۔۔ دشمنیوں سے اٹے ضلع میانوالی کی معروف شخصیت ڈاکٹر حنیف نیازی اپنی ایک خصوصی تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔1_میں کسی کو راستہ نہ دوں, وہ ہارن بجاۓ تو میں اس پر ناراض ہو جاؤں, وہ کچھ بولے تو میں بپھر جاؤں اور اسے قتل کر دوں… 2_میں کسی ٹول پلازہ سے ٹیکس دیئے بغیر گزر جاؤں, وہ مجھے روکیں اور ٹوکیں تو مجھے غیرت آ جاۓ اور میں ان پر فائر کھول دوں… 3_میں کسی سے مذاق کروں, وہ مجھے مذاق کرنے سے روکے تو میں اسے مارنا شروع کردوں۔۔ اور اگر وہ صابر شاکر ہو کر میری مار نہ کھاۓ, تو میں اسے چھری مار دوں… 4_میں کسی کی بہن، بیٹی یا بیٹے کو تنگ کروں, وہ میری منت سماجت کریں, مجھے برا لگے اور میں ان کا خون کر دوں… 5_میں کسی کے کھیت کا پانی توڑ لوں, وہ مجھ سے باز پرس کرے تو میں آگ بگولہ ہو کر 12 بور کا فائر کھول دوں…وغیرہ وغیرہ حد ہے !اسی "گھٹیا غیرت” نے ہمارے ضلع کو ...