" اور پھر ! اسے ، جینے کا راز مل گیا !"
موسی نے
اپنے اردگرد
روزگار کے لیے
اپنے سمیت
تقریبا سب کو
پریشانی کے عالم میں
دائیں بائیں رجوع کرتے پایا۔۔
اپنے اردگرد
روزگار کے لیے
اپنے سمیت
تقریبا سب کو
پریشانی کے عالم میں
دائیں بائیں رجوع کرتے پایا۔۔
اور
اسی وجہ سے
بیچارے لوگوں کو
نام نہاد بڑے بڑے لوگوں کو
جلسے، دعوتیں، تحائف، پروٹوکول دیتے پایا۔۔
ان کے پیروں میں بچھتے پایا۔۔
ان کی بےتکی باتوں پہ خوامخواہ قہقہے لگاتے پایا۔۔
اسی وجہ سے
بیچارے لوگوں کو
نام نہاد بڑے بڑے لوگوں کو
جلسے، دعوتیں، تحائف، پروٹوکول دیتے پایا۔۔
ان کے پیروں میں بچھتے پایا۔۔
ان کی بےتکی باتوں پہ خوامخواہ قہقہے لگاتے پایا۔۔
چونکہ
ہم اپنے
آپ پر اعتماد نہیں کرتے۔۔
اپنے " رب " کی دی ہوئی
خوبیوں پر بھروسہ نہیں کرتے۔۔
اور
اپنے " رب " کی عطاوں سے مایوس رہتے ہیں۔۔
اسی لیے
نام نہاد بڑے لوگوں کو
اپنے ماں باپ سے
اور اپنے اردگرد رہنے والے
غریب لوگوں سے
کئی گنا زیادہ پروٹوکول دینے کے عادی ہو چکے ہیں۔۔
ہم اپنے
آپ پر اعتماد نہیں کرتے۔۔
اپنے " رب " کی دی ہوئی
خوبیوں پر بھروسہ نہیں کرتے۔۔
اور
اپنے " رب " کی عطاوں سے مایوس رہتے ہیں۔۔
اسی لیے
نام نہاد بڑے لوگوں کو
اپنے ماں باپ سے
اور اپنے اردگرد رہنے والے
غریب لوگوں سے
کئی گنا زیادہ پروٹوکول دینے کے عادی ہو چکے ہیں۔۔
سب سے پہلے
موسی نے
اپنے رب کو پہچانا۔۔
اپنی خوبیوں کو پہچانا۔۔
اور
پھر زور بازو پر بھروسہ کرتے ہوئے مزدوری شروع کر دی۔۔
موسی نے
اپنے رب کو پہچانا۔۔
اپنی خوبیوں کو پہچانا۔۔
اور
پھر زور بازو پر بھروسہ کرتے ہوئے مزدوری شروع کر دی۔۔
فقط
ایسا کرنے سے ہی
موسی
اپنے ماں باپ کی
آنکھوں کی چمک بنتا چلا گیا
اور
غریبوں، مسکینوں کی قدر کرنا،
اس کی پہچان بنتا چلا گیا۔۔
ایسا کرنے سے ہی
موسی
اپنے ماں باپ کی
آنکھوں کی چمک بنتا چلا گیا
اور
غریبوں، مسکینوں کی قدر کرنا،
اس کی پہچان بنتا چلا گیا۔۔
اب
وہ فقط
رب ذوالجلال کا گدا تھا۔۔
پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلام تھا۔۔
اپنے ماں باپ کے پاوں کی خاک تھا۔۔
وہ فقط
رب ذوالجلال کا گدا تھا۔۔
پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلام تھا۔۔
اپنے ماں باپ کے پاوں کی خاک تھا۔۔
_____ موساز _____

Comments
Post a Comment