Skip to main content

Posts

Showing posts from January, 2019

" ہمیں ، یہ فاصلے ختم کرنا ہوں گے !" موساز

" ہمیں ،  یہ فاصلے ختم کرنا ہوں گے !" جب میں نے ان اجلے چہروں کے درمیان جا کر یہ کہا کہ میرے بیٹو ! غور سے دیکھو۔۔ میں بھی آپ جیسا ہوں۔۔ میں بھی ایک عام انسان ہوں۔۔ میں بھی آپ کے والدین کے جیسے والدین کا ہی بیٹا ہوں۔۔ میں بھی آپ کے ضلع میانوالی کا ہی بیٹا ہوں۔۔ اور میں یا دوسرے آفیسرز، ڈاکٹرز، ڈی سی اوز، ڈی پی اوز، پروفیسرز، ججز، پائلٹس، وکیل وغیرہ آسمان سے نہیں اترے ہیں بلکہ سب کے سب، عام انسان ہی ہیں تو سب بیٹے مجھے اعتماد کے ساتھ گلے ملنے لگے اور ان سب کے مسکراتے چہرے کہنے لگے کہ سچ کہا ! سچ کہا ! ڈاکٹرز، آفیسرز وغیرہ بھی عام انسان ہی ہوتے ہیں۔۔ بےشک ! سب انسان ایک جیسے ہوتے ہیں، پس وہی آگے نکل جاتے ہیں جو اپنے آپ کو پہچان لیتے ہیں۔۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ احساس دلانا ہو گا کہ صرف تعلیم اور محنت ہی انسان کو خاص بنا دیتی ہے۔۔ مسکراتی تصویر جس میں سب کے سب مسکرا رہے ہیں۔۔                                  _____ موساز _____

Ayla Malik Nawab Zadi of kalabagh saraiki Speech most watching

Ayla Malik Nawab Zadi of kalabagh saraiki Speech most watching
PTI New Song Tarana PTI 2019 Super Hit New 25-1-2019 Imran khan PM Pakistan Fast Jalsa Mianwali 

" شرینڑیاں، پھلیاں، پتاسے تے ٹانگری !"

" شرینڑیاں، پھلیاں، پتاسے تے ٹانگری !" آج صبح سویرے بشیر احمد دھوبی ڈینٹل زون میانوالی پر آئے تو کمال یادوں کی بارات بھی ساتھ لے آئے۔۔ یہ بھائی جان ضلع میانوالی کی پیاری دھرتی موچھ سے تعلق رکھتے ہیں۔۔ ان جیسے موچھ کے بیسیوں ڈرائیور بھائی اور کلینڈر بھائی میری ڈاکٹری کے سفر میں برابر کے حصہ دار ہیں کیونکہ ایف ایس سی کے دنوں میں یہی وہ لوگ ہیں جو مجھے روکھڑی موڑ سے اپنی گاڑیوں پر مفت لے کر آیا جایا کرتے تھے۔۔ یہ سب بھائی مجھے بہت پیار کیا کرتے تھے اور دعاوں کے خزانے بھی لٹایا کرتے تھے۔۔ مجھے یاد ہے۔۔ ایف ایس سی پاس کرنے پر سب سے پہلے میں نے شرینڑیاں، پھلیاں، پتاسے تے ٹانگری، موچھ سٹینڈ میانوالی پر انہی بھائیوں کے درمیان ہی بانٹی تھیں کیونکہ یہ سب ڈرائیورز اور کلینڈرز اس وقت میرے سب سے بڑے محسن تھے اور میرے آخری سانس تک ویسے ہی بےمثال محسن رہیں گے، ان شاءاللہ۔۔ یہ سادہ لوگ عام لوگوں سے بہت مختلف ہیں۔۔ جب بھی ملتے ہیں، ایسے خوش ہو جاتے ہیں جیسے ان کا اپنا بھائی، ان کا ا...

" پتر !، تو کھاسیں تاں میڈے ہاں نال لگسی !"

" پتر !، تو کھاسیں تاں میڈے ہاں نال لگسی !" ایک دن اپنے مرحوم بھائی کے دوست شیرزمان کی شادی پر، موسی خیل کے قریب جانا ہوا۔۔ وہ ہر سال عید پر ہمارے گھر آتا ہے، میری ماں کو ملتا ہے اور چپ چاپ بیٹھ جاتا ہے۔۔ وہ میرے مرحوم بھائی کے سارے دوستوں میں سے، سب سے زیادہ غریب، سب سے زیادہ سادہ اور سب سے زیادہ وفادار دوست ہے۔۔ خبر نہیں، گل کی قبر پر ہر سال بیٹھ کر اس سے کیا باتیں کرتا رہتا ہے ! میری ماں بھی اسے گل حمید کا پرچھاواں سمجھ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتی ہیں۔۔ موسی خیل پہنچے تو اماں سے گزارش کی کہ عمران پلاو(دکھی والا پلاو) خوب بناتا ہے۔۔ اجازت ہو تو تھوڑے سے چاول کھا لیں ! انھوں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔ چاول آ گئے اور ہم دونوں ماں بیٹا چاول کھانے لگے۔۔ چونکہ میں عمران کو اپنے گاہکوں سے برتاو کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا، اس لیے اچانک اپنی پلیٹ پر نظر پڑی تو اس میں بوٹیاں معمول سے کہیں زیادہ لگیں۔۔ اماں کی پلیٹ دیکھی تو اس میں بوٹیاں نہیں تھیں۔۔ میں نے اماں جان سے پوچھا ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟؟ آپ کو بوٹیاں اچھی نہیں لگتیں !! وہ بولیں۔۔ بیٹا ! مجھے بوٹی...

" 2018 اور رب ذوالجلال کی مہربانیاں !"

" 2018 اور رب ذوالجلال کی مہربانیاں !" ویسے تو پروردگار عالم کی مہربانیاں گننا ناممکن ہے لیکن سوچا کیوں نہ اس مہربان کی عطائیں شمار کرنے کو رواج دیا جائے۔۔ 2018 کے شروع سے آخر تک سب گھر والے خوب صحت مند رہے، شکر گزار رہے۔۔ چھوٹے بھائی کو کینسر تشخیص ہوا اور ڈیڑھ مہینے کے اندر اندر شفاء اس کا مقدر ٹھہری۔۔ پورا سال بھائیوں میں اضافہ ہوتا رہا، دوستوں میں اضافہ ہوتا رہا۔۔ ہزاروں دلوں میں پلاٹ لیے، گھر تعمیر کیے۔۔ کئی احباب کی خوشیوں میں مور بن کر ناچا اور کئی احباب کے دکھوں پہ آنسو بہائے۔۔ بیسیوں سکولوں، کالجوں اور محفلوں میں جانا ہوا۔۔ ہزاروں چھوٹے بھائیوں کے سامنے رب ذوالجلال کی عطائیں شمار کرنے کا موقع ملا اور ان تک سید عطا محمد شاہ مرحوم کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے، اندھیروں سے اجالوں تک پہنچنے کے راز پہنچائے۔۔ 2012 اور پھر 2018 ماڈل کاریں عطا ہوئیں۔۔ اسکندرآباد میں 6 سال کی قلیل مدت کی پرائیویٹ ڈینٹل پریکٹس کے بعد کوٹھی بنانے کی بجائے، پلاٹ لینے کی بجائے، میانوالی شہر میں تقریبا 40 لاکھ مالیت کا سرگودھا ڈویژن کا جدید ترین ڈینٹل کلینک بنانے کا شرف...

" جسے ! دوسروں کے لیے جینے کا ڈھنگ آ گیا !"

" جسے ! دوسروں کے لیے جینے کا ڈھنگ آ گیا !" جب بھی سوچتا ہوں کہ ایک دن یہ دنیا چھوڑ جانا ہے تو دل مطمعن ہو جاتا ہے کہ چلو میرے بہت سارے بھائی اب ایسے ہیں، جنھیں اللہ عزوجل کے فضل سے دوسروں کے لیے جینے کا ڈھنگ آ چکا ہے۔۔ انھی سینکڑوں بھائیوں میں سے ایک شاکر خان بھی ہیں، جسے دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔۔ دعا ہے۔۔ میرے سارے بھائی سلامت رہیں، شاد رہیں۔۔ خان اعظم ! تمھیں اور تمھارے لعل کو دنیا میں آنے کا دن مبارک ہو۔۔ جب تک جیو، ممتاز ہو کر جیو۔۔ _____ موساز _____

" آج ! گورنمنٹ ہائی سکول غنڈی !"

" آج ! گورنمنٹ ہائی سکول غنڈی !" الحمداللہ رب العالمین۔۔ آج اپنے استاد محترم جناب سید عطا محمد شاہ مرحوم کو خراج تحسین پیش کرنے، موساز کارواں (شاکر خان، ثمر عباس، طارق اقبال خان نیازی، قمرالحسن بھریوں زادہ، میں اور آپ سب) گورنمنٹ ہائی سکول غنڈی پہنچا۔۔ نوجوان اور متحرک اساتذہ کرام اور پاکستان کے اجلے چہروں سے ملاقات ہوئی۔۔ انقلاب بذریعہ قلم کتاب پر زور دیا گیا اور یہ عہد کیا گیا کہ اپنے گھر سے، اپنے ضلع سے، اپنے صوبہ سے، اپنے ملک سے، غربت اور جہالت کو ہم سب مل کر تعلیم کے ہتھیار سے شکست دیں گے، ان شاءاللہ۔۔ اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اشرف المخلوقات ہونے کی وجہ سے، اللہ عزوجل کے فضل سے، ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں اور ناممکن کا لفظ ہمارے لیے نہیں ہے۔۔ وہاں موجود سارے نوجوانوں نے اپنے ماں باپ، اپنے اساتذہ کرام اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے کا وعدہ کیا۔۔ تمام اساتذہ کرام نے سید عطا محمد شاہ مرحوم کو خوب سلام پیش کیا اور ان کے نقش قدم پر چل کر اپنے علاقہ کے غریب و نادار طالبعلموں کی زندگیوں میں حقیقی انقلاب لانے کا ارادہ بھی کیا۔۔ ہم سب موساز کے پلیٹ فارم سے گورنمن...

" معلم کا جو مقام، میں نے دیکھا ہے !

" معلم کا جو مقام، میں نے دیکھا ہے ! جناب منور علی ملک صاحب کے، عصمت گل خٹک بھائی جان کی پوسٹ پر، ایک خوبصورت ترین کمنٹ کے جواب میں۔۔۔ استاد زی وقار ! میں تو بس کوشش کر رہا ہوں کہ معلم کا جو مقام میں نے دیکھا ہے۔۔۔ معلم کے اسی مقام سے اپنے ارد گرد رہنے والے سب لوگوں کو متعارف کرا دوں۔۔۔ ایک سچا معلم، اللہ کے فضل سے کیا کیا کر سکتا ہے۔۔۔ میں نے ایسے دیکھا ہے، جیسے ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں۔۔۔ میں اپنے والدین اور اپنے اساتذہ کرام کے قدموں کی خاک بن کر جینے کی تمنا لیے پھرتا ہوں۔۔۔ دعا کیجیے۔۔ میری یہ تمنا پوری ہو جائے، آمین۔۔ _____ موساز _____

وہ عجیب سی شام تھی

وہ عجیب سی شام تھی بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں سگرٹ ہونٹوں تک آیا ۔۔۔ پلکیں بھنچ گئیں۔۔۔ ماتھے کی افقی لکیریں آفاقی ہو گئیں۔۔۔ ساون* بھی برس رہا تھا۔۔۔ دھویں کے بادل فضا میں بکھیرتے اس درویش کی آواز گونجی۔۔۔ "میرے بہت سے بزرگ دوست تھے۔۔۔ بزرگوں کی دوستی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، میں ۔۔اور ارشد وٹو لائبریریاں گھنگالتے۔۔۔ کتابیں پڑھتے ۔۔۔اچھے لکھنے والوں سے ملتے ۔۔ میرے بہت سے دوست عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے پھر میں نے زیادہ عمر کے لوگوں سے دوستیاں ترک کر دیں" یہ کہتے ہوئے درویش کی آنکھوں میں نمی اتر آئی قبل اس کے کہ میں پوچھتا کہ۔۔۔کیوں ترک کیں دوستیاں۔۔۔ درویش کی آواز نے لمحاتی سناٹے کو توڑا۔۔ ہمممممم۔۔۔۔ وہ مر جاتے تھے۔۔۔ بزرگ دوست مر جاتے تو میں بھی مر جاتا تھا ۔۔۔ پھر میں نے صرف نوجوانوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کیا۔۔۔ وہ اذیت سہنا ۔۔۔ بہت کرب انگیز تھا "شاکر ،تم سمجھ رہے ہو نا؟" جی جی۔۔۔ جی بھائی۔۔۔ کالاباغ میں کوٹ چاندنہ کی سمت بڑھتے رستے پہ ایک عام سے ریسٹورنٹ کے کشادہ کمرے میں اس درویش نے اتنی باتیں ۔۔ خلوص کا ریپر کر کے میری ذہن کی جھولی میں پھین...

" پاک سرزمین شاد باد، آج الحرا کالج قائد آباد !"

" پاک سرزمین شاد باد، آج الحرا کالج قائد آباد !" پاکستان کے اجلے چہرے دیکھنے، آج موساز ٹیم الحرا کالج قائد آباد پہنچی۔۔ اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کرنے اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے بعد، والدین ، اساتذہ کرام اور انسانیت سے محبت کرنے والوں کو خوب خراج تحسین پیش کیا گیا۔۔ نوجوانوں کو اپنے ماں باپ، اپنے اساتذہ کرام اور اپنے معاشرہ کے لیے قابل رشک اور قابل فخر بننے کی ترغیب دی گئی۔۔ آخر میں ہم سب نے مل کر یہ عہد کیا کہ اپنے ملک سے غربت اور جہالت کے اندھیروں کو علم کی روشنی سے مات دیں گے، ان شاءاللہ۔۔ الحرا کالج کے جملہ اساتذہ کرام اور طلباء کرام کے چمکتے چہرے دیکھ کر، پاکستان کا مستقبل روشن روشن نظر آیا۔۔ قائد کا وطن آباد رہے قائد آباد، آباد رہے۔۔ _____ موساز _____
" یہ انتظار ہے یا زندگی سے فرار ہے !" موسی ایک ہوٹل پہ بیٹھا لڈو کھیل رہا تھا۔۔ اسے میٹرک کیے ہوئے 3 سال ہو چکے تھے۔۔ اس کے ساتھ عیسی خان، شیرخان اور عیسب خان بھی لڈو کھیل رہے تھے۔۔ وہ سب بھی کافی سال پہلے ایف اے، بی اے کر چکے تھے۔۔ موسی سے جو بھی پوچھتا کہ آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے تو وہ کہتا۔۔ بابا جان نے، فلاں ایم این اے، فلاں ایم پی اے، فلاں کرنل اور فلاں ڈی ایچ او کو میری سند اور ڈومیسائل دیے ہوئے ہیں۔۔ بہت جلد کہیں نہ کہیں سے ملازمت کی کال آ جائے گی۔۔ اس کے ماں باپ بھی اسی امید پر قائم تھے، اس لیے سب گھر والے اب موسی کو چند دنوں کا مہمان سمجھ کر خوب مہان نوازی کیا کرتے تھے کہ کیا پتہ کب ملازمت مل جائے اور ان کا بیٹا مسافر ہو جائے۔۔ موسی اور اس جیسے ہزاروں نوجوان کئی سالوں سے ایسے ہی انتظار سے گزر رہے تھے اور اپنی زندگی کی قیمتی ترین دن ہوٹلوں، بیٹھکوں، پارکوں میں بیٹھ بیٹھ کر گزار رہے تھے اور کئی تو اب تک اوورایج بھی ہو چکے تھے۔۔ موسی اس زندگی سے فرار والے انتظار سے اکتا چکا تھا۔۔ اس لیے اس نے چائے کا ایک کھوکھا بنا لیا، رب ذوالجلال کو اپ...

" اور پھر ! اسے ، جینے کا راز مل گیا !"

" اور پھر ! اسے ، جینے کا راز مل گیا !" موسی نے اپنے اردگرد روزگار کے لیے اپنے سمیت تقریبا سب کو پریشانی کے عالم میں دائیں بائیں رجوع کرتے پایا۔۔ اور اسی وجہ سے بیچارے لوگوں کو نام نہاد بڑے بڑے لوگوں کو جلسے، دعوتیں، تحائف، پروٹوکول دیتے پایا۔۔ ان کے پیروں میں بچھتے پایا۔۔ ان کی بےتکی باتوں پہ خوامخواہ قہقہے لگاتے پایا۔۔ چونکہ ہم اپنے آپ پر اعتماد نہیں کرتے۔۔ اپنے " رب " کی دی ہوئی خوبیوں پر بھروسہ نہیں کرتے۔۔ اور اپنے " رب " کی عطاوں سے مایوس رہتے ہیں۔۔ اسی لیے نام نہاد بڑے لوگوں کو اپنے ماں باپ سے اور اپنے اردگرد رہنے والے غریب لوگوں سے کئی گنا زیادہ پروٹوکول دینے کے عادی ہو چکے ہیں۔۔ سب سے پہلے موسی نے اپنے رب کو پہچانا۔۔ اپنی خوبیوں کو پہچانا۔۔ اور پھر زور بازو پر بھروسہ کرتے ہوئے مزدوری شروع کر دی۔۔ فقط ایسا کرنے سے ہی موسی اپنے ماں باپ کی آنکھوں کی چمک بنتا چلا گیا اور غریبوں، مسکینوں کی قدر کرنا، اس کی پہچان بنتا چلا گیا۔۔ اب وہ فقط رب ذوالجلال کا گدا تھا۔۔ پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلام تھا۔۔ اپنے ماں باپ کے پاوں کی خاک ت...

#Famous #Personalities

#Famous #Personalities #Nawab #Of #Kalabagh #famous #personalities #aisha #the #world's #most #famous #personality #world #famous #photographers #World #Famous #Personalities    #famous #people #Daud #khel #Mochh #Mianwali #Piplan #mianwali #Isakhel #Chidruu #Awan #Namal #Rekhi #Chakrala #Shahbazkhel #Balokhel #Pakki #shah #mardan #sikandrabad #khairabad #Thathi #sharif #Tarikhel #Samandi #wala #Harnoli  #kundian #chashma #Kalabagh #University #of #Sargodha  #sub #campus #Mianwali #My #Favourite #Hobby #Horse #Riding #Famous #Personalities #Of #World Famous Personalities Pakistan #Famous #Personalities #MianwaliCity #PunjabPakistan #Famous #People# #Of #Pakistan Super Hit Man Famous Personalities Dher Umaid Ali Shah Malik Sammar Abbas Awan Born 21-3-1990 In Dher Umaid Ali Shah From Mianwali Live In Mianwali City I Love My City Kalabagh dher umaid ali shah Famous Personalities Malik Sammar Abbas Mianwali Punjab Pakistan most famous people in histor...
" جب جب ! آپ کے دل میں ، دعا بن کر دھڑکا !" اللہ عزوجل کی مہربانیوں سے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر آٹے میں نمک کے کروڑویں حصہ سے بھی کم عمل کر کے، آج تک میں آپ سب کے دلوں میں 50 ہزار بار " دعا " بن کر دھڑکا ہوں۔۔ بےشک ! آپ سب کی دعائیں ہی میرا کل سرمایہ ہیں۔۔ دعا ہے۔۔ اللہ عزوجل مجھے یونہی آپ سب کا " اپنا " بنائے رکھے، آمین۔۔ آپ سب سلامت رہیں۔۔ آپ سب کے پیارے سلامت رہیں۔۔ _____ موساز _____
" اے پروردگار ! میں تجھ سے راضی ہوں !" ایک ادنی ترین اور کمزور ترین مسلمان ہونے کے ناطے، پروردگار عالم سے میں خوب راضی ہوں کیونکہ جتنا اس نے مجھے عطا کیا ہوا ہے، اتنی میری اوقات نہیں ہے۔۔ دعا ہے۔۔ رب العالمین ہم سب کو ایسا بنائے رکھے کہ اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند آ جائیں، اس کے بندوں کو پسند آ جائیں اور اس کی مخلوقات کے لیے خیر کا باعث بن جائیں۔۔ اے پروردگار ! ہم سب کے پردے سلامت رکھنا، ہمارے خیرخواہوں میں اضافہ کرتے رہنا، ہمارے احباب میں اضافہ کرتے رہنا، ہمارے دشمنوں میں گھاٹا کرتے رہنا، اور ہمیں اپنے والدین و اساتذہ کرام و ملک و قوم کے لیے مفید بنائے رکھنا، آمین یا رب العالمین۔۔ یہ تصویر ان ہستیوں کے ساتھ ہے جن کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کی دعائیں ہردم کرتا رہتا ہوں۔۔ _____ موساز _____
" آپ سب کے دل میں، کیوں رہتا ہوں !" میں ہر روز اپنے ماں باپ کے ہاتھ چوم کر ان سے اپنے لیے دین و دنیا میں معزز ہونے کی دعائیں لیتا ہوں۔۔ پھر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زلفوں کی قسمیں کھانے والا ! میرے بزرگ والدین کے سفید بالوں کی لاج رکھ لیتا ہے، اور میرے لیے آپ سب بھائیوں، بزرگوں اور دوستوں کے دلوں میں شفقت و محبت کے خزانے بھر دیتا ہے۔۔ بےشک ! سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔۔ کیا ہوا ! کوئی حجام کے گھر پیدا ہوا ! کوئی لوہار کے گھر پیدا ہوا ! کوئی سید کے گھر پیدا ہوا ! کوئی ملک کے گھر پیدا ہوا ! کوئی پٹھان کے گھر پیدا ہوا ! کوئی کسی کے گھر پیدا ہوا ! بس یہی درس قران ہے۔۔ یہی درس سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔۔ یہی درس انسانیت یے۔۔ آپ سب کے پیارے محمد موسی خان اور محمد عیسی خان کے ساتھ۔۔ _____ موساز _____
" پہلے عطائیں ! پھر وفائیں !" مشن :- عطا سے وفا۔۔ آج موساز کارواں گورنمنٹ ہائی سکول پکی شاہمردان، پاکستان کے اجلے چہرے دیکھنے جا رہا ہے، ان شاءاللہ۔۔ وہ شہر جہاں سید عطا محمد شاہ مرحوم نے زندگی کے آخری تدریسی سال گزارے۔۔ ایک ایسا معلم جس نے آخری سانس تک تدریس کا عمل جاری رکھا اور اللہ عزوجل کے فضل سے میرے جیسے ہزاروں میانوالی کے بیٹوں کی اندھیری زندگیوں میں روشنی کا باعث بنا۔۔ اللہ عزوجل اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد، اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیاروں کے بعد، میرے ماں باپ کے بعد، میرے سب سے بڑے محسن جناب سید عطا محمد شاہ مرحوم ہیں۔۔۔ جن کی تربیت نے اللہ رب العزت کے خاص فضل سے مجھے اپنے ماں باپ کا بیٹا بنا دیا، اپنے معلموں کا شاگرد بنا دیا، اپنے اردگرد رہنے والوں کا اپنا بنا دیا۔۔ دعا ہے۔۔ پروردگار عالم ہمارے محسنوں کو دنیا و آخرت میں معزز رکھے، آمین۔۔ _____ موساز _____
" موساز کارواں، آج پکی شاہمرداں !" الحمدللہ ! سردیوں کی چھٹیوں کے بعد آج گورنمنٹ ہائی سکول پکی شاہمردان میں، پاکستان کے اجلے چہرے دیکھنے کا موقع ملا۔۔ یہ وہی گورنمنٹ سکول ہے، جہاں سے مرحوم سید عطا محمد شاہ صاحب ریٹائر ہوئے تھے اور پھر انھوں نے اپنے ایک پرائیویٹ ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔۔ گورنمنٹ ہائی سکول پکی شاہمردان اب تک مندرجہ ذیل امتیازی سرٹیفیکیٹس حاصل کر چکا ہے، جو جناب ہیڈماسٹر جاوید اقبال ملک صاحب اور انکی ٹیم کی لگن اور خلوص کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔۔ 1- ڈسٹرکٹ سٹار ہائی سکول۔۔ 2- ڈسٹرکٹ سٹار ہیڈ ماسٹر(جاوید اقبال ملک صاحب)۔۔ 3- ڈسٹرکٹ سٹار ٹیچر(غلام عباس رجائی صاحب)۔۔ 4- ڈسٹرکٹ بیسٹ پرفارمر سکول۔۔ 5- ساڑھے بارہ سو(1250) سٹوڈینٹس۔۔ سارے اساتذہ کرام کو خوب خراج تحسین پیش کرنے کے بعد اپنے مستقبل کے معماروں تک موساز کا پیغام پہنچایا اور انھیں اپنے ماں باپ، اساتذہ کرام اور ملک و قوم کے لیے باعث فخر بننے کی دعائیں دیں۔۔ اپنی قوم کے ان معصوم بچوں تک مرحوم سید عطا محمد شاہ صاحب کی وہ امانت پہنچائی، جو انھوں نے مجھے 23 سال پہلے اللہ عزوجل کے فضل سے عطا کی تھی۔۔ ...
آج تک کی میری بےنظیر تصویر جس میں میرا چہرہ واضح نظر نہیں آ رہا ! لیکن پھر بھی میرے کئی چہرے نظر آ رہے ہیں۔۔ ان سب بیٹوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ ڈاکٹر حنیف نیازی بھی ان کی ماوں جیسی ایک سادہ، دیہاتی، انپڑھ، غریب اور مزدور ماں کا بیٹا ہے تو ان سب کی آنکھیں چمک اٹھیں اور امیدیں، جذبے، ولولے، ان سب کے چہروں پر رقص کرنے لگے۔۔ _____ موساز _____ فوٹوگرافر :- میرے بھائی، شاکر خان

میانوالی ہمارے شہر میں کل پھر کئی قتل ہو گئے.

میانوالی ہمارے شہر میں کل پھر کئی قتل ہو گئے, کئی ماؤں کے کلیجے پھٹ گئے, کئی بہنوں کے کلیجے چھلنی ہو گئے… جس نے بھی دنیا میں ایسی ” غیرت ” کی داغ بیل ڈالی تھی, اس ” بےغیرت ” پر بےشمار لعنت بھیجنی چاہیے… ایسی گھٹیا "غیرت” کی نشانیاں۔۔۔ دشمنیوں سے اٹے ضلع میانوالی کی معروف شخصیت ڈاکٹر حنیف نیازی اپنی ایک خصوصی تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔1_میں کسی کو راستہ نہ دوں, وہ ہارن بجاۓ تو میں اس پر ناراض ہو جاؤں, وہ کچھ بولے تو میں بپھر جاؤں اور اسے قتل کر دوں… 2_میں کسی ٹول پلازہ سے ٹیکس دیئے بغیر گزر جاؤں, وہ مجھے روکیں اور ٹوکیں تو مجھے غیرت آ جاۓ اور میں ان پر فائر کھول دوں… 3_میں کسی سے مذاق کروں, وہ مجھے مذاق کرنے سے روکے تو میں اسے مارنا شروع کردوں۔۔ اور اگر وہ صابر شاکر ہو کر میری مار نہ کھاۓ, تو میں اسے چھری مار دوں… 4_میں کسی کی بہن، بیٹی یا بیٹے کو تنگ کروں, وہ میری منت سماجت کریں, مجھے برا لگے اور میں ان کا خون کر دوں… 5_میں کسی کے کھیت کا پانی توڑ لوں, وہ مجھ سے باز پرس کرے تو میں آگ بگولہ ہو کر 12 بور کا فائر کھول دوں…وغیرہ وغیرہ حد ہے !اسی "گھٹیا غیرت” نے ہمارے ضلع کو ...

میرا میانوالی

میرا میانوالی فیس بک کا کلچر تبدیل کر کے اسے معلومات اور رھنمائی کا ذریعہ بنانے کا آغاز مرحوم ظفرخان نیازی اور پروفیسر اشرف علی کلیار صاحب نے کیا - پھر میں بھی اس کارخیر میں حصہ ڈالنے لگا - اب تو ماشآءاللہ اچھا لکھنے والوں کی ایک ٹیم یہ کام کر رھی ھے - اس ٹیم کے سب سے مقبول قلمکار ڈاکٹرحنیف نیازی ھیں - وہ انسانی رشتوں کے تقدس، تحفظ اور ذمہ داریوں کی باتیں بہت دلنشیں انداز میں کرتے ھیں - بہت مؤثر اندازمیں استاد شاگرد ، والدین اور اولاد جیسے نازک رشتوں کی نزاکتوں  کا احساس دلاتے ھیں - ان کا ذاتی کردار نوجوان نسل کے لیے رول ماڈل ھے - عصمت گل خٹک سینیئرصحافی بھی ھیں بہت اچھے شاعر بھی - فیس بک پر سیاسی اور سماجی رویوں ، منافقتوں اور حماقتوں کی نشان دہی بہت مؤثر انداز میں کررھے ھیں - شروع میں میری طرح یہ بھی فیس بک سے کچھ الرجک تھے - پذیرائی ملی تو سمجھ گئے کہ لوگوں کو میری تحریروں کی ضرورت ھے - اب تقریبا باقاعدہ لکھ رھے ھیں -  وقاراحمدملک بہت اچھے افسانہ نگار اور بہت اچھے ٹیچر ھیں - ان کی تحریریں بھی بہت دلکش اور مقبول ھیں - انگریزی اور اردوادب کے بارے م...