Skip to main content

Posts

وسیب کے رنگوں میں رنگے سرائیکی وسیب

 #ماہرتعلیم_پروفیسرسرورنیازی_کا_اردو_ناول_کچہ_اشاعت_کے_آخری_مراحل_میں پروفیسرسرور خان نیازی کا شمار شعبہ تعلیم میں میانوالی کے نامور اہل علم اور بزرگ اساتذہ میں ہوتا ہے جو اپنی سادہ طبیعت، علم و ہنر سے وابستگی اور اعلی ذوق کی وجہ سے شعبہ تعلیم میں نمایاں مقام رکھتے ہیں وہیں باذوق طبیعت کے مالک اور اچھے مصنف اور رائٹرہیں جو سرائیکی وسیب اور میانوالی کی ثقافت سے والہانہ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں جس کا اظہار وہ اپنے جلد آنے والے اردو ناول " کچہ" جو کہ طباعت کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے میں خوبصورت انداز میں کرتے ہیں ان کا اردو ناول "کچہ" جلد ہی طباعت کے مراحل سے ہو کر میانوالی اور بھکر کی علاقہ کچہ کی ثقافت کا امین یہ شہکار ناول وسیب سے عقیدت و محبت کرنے والے عشاق کے دلوں کو منور کرنے کے لیے ان کے ہاتھوں میں ہو گا اس ناول کی کہانی احاطہ کرتی ہے ان خاندانوں کا جو چشمہ بیراج کی تعمیر کے ہاتھوں اجڑے اور غم کی دستان ہے ان بچھڑے خاندانوں کی جو ہنستے بستے گھروکو چھوڑ کر دور دیسوں کے باسی ٹھہرے ذکر ہے ان کچہ کے وانڈوں دیہاتوں کا جہاں کبھی خوشیاں رقص کرتیں تھی مگر اب داست...

پاکستانی اداکارہ مایا علی

مریم تنویر اپنے اسٹیج کا نام مایا علی (اردو: مایا علی) کے نام سے جانی جاتی ہے ،  ایک پاکستانی اداکارہ ، ماڈل اور وی جے ہیں ، زیادہ تر وہ پاکستانی ٹیلی وژن سیریل اور فلمی صنعت میں اپنے کرداروں کے لئے جانا جاتا ہے۔ اس نے علی ظفر کے برخلاف پریشانی میں 2018 کی ایکشن ڈرامہ فلم تیفا سے اپنی فلمی شروعات کی ، اور اس کی پیروی شیر یار منور کے مقابلہ میں سنہ 2019 میں رومانٹک-مزاحیہ فلم پیری ہٹ محبت میں مرکزی کردار کے ساتھ کی ، یہ دونوں تجارتی لحاظ سے کامیاب رہی اور سابقہ ​​کمائی لکس اسٹائل ایوارڈز میں بہترین اداکارہ کے لئے ان کی  نامزدگی۔   مایا علی 2016 میں سیف الملک میں پیدا ہوا مریم تنویر 27 جولائی 1989 (عمر 31) [1] لاہور ، پنجاب ، پاکستان قومیت پاکستانی الما میٹر کوئین میری کالج ، لاہور پیشہ اداکارہ ، ماڈل ، وی جے ، میزبان سال فعال 2012 – موجودہ مایا علی مریم تنویر علی  کی حیثیت سے 27 جولائی 1988 کو پاکستان ، لاہور ،  میں پیدا ہوئیں۔  مایا  علی نے کوئین میری کالج ، لاہور سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی تعلیم مکمل کی۔ علی پھر وی جے بن گیا۔ مایا علی کھیلوں میں ...

غزستان کے وزیر اعظم نے استعفی دے دیا ہے

 انتخابات کے بعد ہونے والے مظاہروں کے بعد ، کرغزستان کے وزیر اعظم نے استعفی دے دیا ہے ، اور سابق سوویت جمہوریہ کو سیاسی انتشار کی حالت میں چھوڑ دیا ہے۔ مبینہ طور پر کبت بیک بوروونوف کی جگہ سدر جبروف نے لی تھی ، جسے مظاہرین نے جیل سے رہا کیا تھا۔ انتخابی نتائج منسوخ کردیئے گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے کہا ہے کہ وہ ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی ، لیکن بتایا گیا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی۔ روس اور چین نے اس بحران پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کے روز دارالحکومت بشکیک میں ایک بہت بڑا ہجوم جمع ہوا جس نے ملک کے صدر ، سورون بے جنبکوف کی برطرفی کا مطالبہ کیا ، جس نے پہلے ہی اشارہ دیا تھا کہ وہ اقتدار چھوڑنے کے لئے تیار ہے۔ روس کے حامی صدر نے منگل کو بی بی سی کو بتایا کہ وہ "مضبوط رہنماؤں کو ذمہ داری دینے کے لئے تیار ہیں" لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ ان کے ذہن میں کسے ہیں۔ انتخابی نتائج نے بڑے پیمانے پر ووٹ خریدنے کے الزامات کے درمیان ، مسٹر جن بیکوف کے ساتھ اتحادی جماعتوں کو ووٹ کا سب سے بڑا حصہ حاصل کرتے ہوئے دیکھا۔ گذشتہ پندرہ سالوں میں کرغزستان میں دو صدور کو...

Doctor Hanif Niazi

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ 1997 میں جب ریت پر سید عطا محمد شاہ مرحوم کے پاؤں کے نشانوں پر پاؤں رکھ کر چلا کرتا تھا تو یہ دعا کیا کرتا تھا ! اے رب ذوالجلال ! مجھے اس مرد درویش کے نقش قدم پر حقیقی معنوں میں چلنے کی توفیق عطا فرما دے اور اپنے والدین کا ممتاز بیٹا بنا دے, آمین..  آج مجھے لگ رہا ہے جیسے اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقے میری ساری دعائیں قبول کر لی ہیں اور مجھے دی ریڈر کالج میانوالی کا منیجنگ ڈائریکٹر  اور قانونی مالک بنا دیا ہے..  دعا ہے..  اللہ عزوجل  مجھے اس مقدس شعبے میں اپنے اساتذہ کرام, اپنے والدین اور اپنے محسنوں کی عزت میں اضافے کا باعث بنا دے اور میانوالی کے لیے بہترین اور منفرد کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرما دے, آمین..  آپ سب کی دعائیں اور حوصلہ افزائی ہی میری جرأت ہیں !  میرا تعارف ہیں !

میانوالی کالاباغ میں آخری غروب آفتاب 2019

میانوالی کالاباغ میں آخری غروب آفتاب 2019 کا خوبصورت منظر۔۔💞  اللہ پاک ہمارے ملک کے لیے 2020 خوشیوں کا سال لے کر آئے۔ آمین ثمہ آمین

" ہمیں ، یہ فاصلے ختم کرنا ہوں گے !" موساز

" ہمیں ،  یہ فاصلے ختم کرنا ہوں گے !" جب میں نے ان اجلے چہروں کے درمیان جا کر یہ کہا کہ میرے بیٹو ! غور سے دیکھو۔۔ میں بھی آپ جیسا ہوں۔۔ میں بھی ایک عام انسان ہوں۔۔ میں بھی آپ کے والدین کے جیسے والدین کا ہی بیٹا ہوں۔۔ میں بھی آپ کے ضلع میانوالی کا ہی بیٹا ہوں۔۔ اور میں یا دوسرے آفیسرز، ڈاکٹرز، ڈی سی اوز، ڈی پی اوز، پروفیسرز، ججز، پائلٹس، وکیل وغیرہ آسمان سے نہیں اترے ہیں بلکہ سب کے سب، عام انسان ہی ہیں تو سب بیٹے مجھے اعتماد کے ساتھ گلے ملنے لگے اور ان سب کے مسکراتے چہرے کہنے لگے کہ سچ کہا ! سچ کہا ! ڈاکٹرز، آفیسرز وغیرہ بھی عام انسان ہی ہوتے ہیں۔۔ بےشک ! سب انسان ایک جیسے ہوتے ہیں، پس وہی آگے نکل جاتے ہیں جو اپنے آپ کو پہچان لیتے ہیں۔۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ احساس دلانا ہو گا کہ صرف تعلیم اور محنت ہی انسان کو خاص بنا دیتی ہے۔۔ مسکراتی تصویر جس میں سب کے سب مسکرا رہے ہیں۔۔                                  _____ موساز _____

Ayla Malik Nawab Zadi of kalabagh saraiki Speech most watching

Ayla Malik Nawab Zadi of kalabagh saraiki Speech most watching
PTI New Song Tarana PTI 2019 Super Hit New 25-1-2019 Imran khan PM Pakistan Fast Jalsa Mianwali 

" شرینڑیاں، پھلیاں، پتاسے تے ٹانگری !"

" شرینڑیاں، پھلیاں، پتاسے تے ٹانگری !" آج صبح سویرے بشیر احمد دھوبی ڈینٹل زون میانوالی پر آئے تو کمال یادوں کی بارات بھی ساتھ لے آئے۔۔ یہ بھائی جان ضلع میانوالی کی پیاری دھرتی موچھ سے تعلق رکھتے ہیں۔۔ ان جیسے موچھ کے بیسیوں ڈرائیور بھائی اور کلینڈر بھائی میری ڈاکٹری کے سفر میں برابر کے حصہ دار ہیں کیونکہ ایف ایس سی کے دنوں میں یہی وہ لوگ ہیں جو مجھے روکھڑی موڑ سے اپنی گاڑیوں پر مفت لے کر آیا جایا کرتے تھے۔۔ یہ سب بھائی مجھے بہت پیار کیا کرتے تھے اور دعاوں کے خزانے بھی لٹایا کرتے تھے۔۔ مجھے یاد ہے۔۔ ایف ایس سی پاس کرنے پر سب سے پہلے میں نے شرینڑیاں، پھلیاں، پتاسے تے ٹانگری، موچھ سٹینڈ میانوالی پر انہی بھائیوں کے درمیان ہی بانٹی تھیں کیونکہ یہ سب ڈرائیورز اور کلینڈرز اس وقت میرے سب سے بڑے محسن تھے اور میرے آخری سانس تک ویسے ہی بےمثال محسن رہیں گے، ان شاءاللہ۔۔ یہ سادہ لوگ عام لوگوں سے بہت مختلف ہیں۔۔ جب بھی ملتے ہیں، ایسے خوش ہو جاتے ہیں جیسے ان کا اپنا بھائی، ان کا ا...

" پتر !، تو کھاسیں تاں میڈے ہاں نال لگسی !"

" پتر !، تو کھاسیں تاں میڈے ہاں نال لگسی !" ایک دن اپنے مرحوم بھائی کے دوست شیرزمان کی شادی پر، موسی خیل کے قریب جانا ہوا۔۔ وہ ہر سال عید پر ہمارے گھر آتا ہے، میری ماں کو ملتا ہے اور چپ چاپ بیٹھ جاتا ہے۔۔ وہ میرے مرحوم بھائی کے سارے دوستوں میں سے، سب سے زیادہ غریب، سب سے زیادہ سادہ اور سب سے زیادہ وفادار دوست ہے۔۔ خبر نہیں، گل کی قبر پر ہر سال بیٹھ کر اس سے کیا باتیں کرتا رہتا ہے ! میری ماں بھی اسے گل حمید کا پرچھاواں سمجھ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتی ہیں۔۔ موسی خیل پہنچے تو اماں سے گزارش کی کہ عمران پلاو(دکھی والا پلاو) خوب بناتا ہے۔۔ اجازت ہو تو تھوڑے سے چاول کھا لیں ! انھوں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔ چاول آ گئے اور ہم دونوں ماں بیٹا چاول کھانے لگے۔۔ چونکہ میں عمران کو اپنے گاہکوں سے برتاو کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا، اس لیے اچانک اپنی پلیٹ پر نظر پڑی تو اس میں بوٹیاں معمول سے کہیں زیادہ لگیں۔۔ اماں کی پلیٹ دیکھی تو اس میں بوٹیاں نہیں تھیں۔۔ میں نے اماں جان سے پوچھا ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟؟ آپ کو بوٹیاں اچھی نہیں لگتیں !! وہ بولیں۔۔ بیٹا ! مجھے بوٹی...

" 2018 اور رب ذوالجلال کی مہربانیاں !"

" 2018 اور رب ذوالجلال کی مہربانیاں !" ویسے تو پروردگار عالم کی مہربانیاں گننا ناممکن ہے لیکن سوچا کیوں نہ اس مہربان کی عطائیں شمار کرنے کو رواج دیا جائے۔۔ 2018 کے شروع سے آخر تک سب گھر والے خوب صحت مند رہے، شکر گزار رہے۔۔ چھوٹے بھائی کو کینسر تشخیص ہوا اور ڈیڑھ مہینے کے اندر اندر شفاء اس کا مقدر ٹھہری۔۔ پورا سال بھائیوں میں اضافہ ہوتا رہا، دوستوں میں اضافہ ہوتا رہا۔۔ ہزاروں دلوں میں پلاٹ لیے، گھر تعمیر کیے۔۔ کئی احباب کی خوشیوں میں مور بن کر ناچا اور کئی احباب کے دکھوں پہ آنسو بہائے۔۔ بیسیوں سکولوں، کالجوں اور محفلوں میں جانا ہوا۔۔ ہزاروں چھوٹے بھائیوں کے سامنے رب ذوالجلال کی عطائیں شمار کرنے کا موقع ملا اور ان تک سید عطا محمد شاہ مرحوم کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے، اندھیروں سے اجالوں تک پہنچنے کے راز پہنچائے۔۔ 2012 اور پھر 2018 ماڈل کاریں عطا ہوئیں۔۔ اسکندرآباد میں 6 سال کی قلیل مدت کی پرائیویٹ ڈینٹل پریکٹس کے بعد کوٹھی بنانے کی بجائے، پلاٹ لینے کی بجائے، میانوالی شہر میں تقریبا 40 لاکھ مالیت کا سرگودھا ڈویژن کا جدید ترین ڈینٹل کلینک بنانے کا شرف...

" جسے ! دوسروں کے لیے جینے کا ڈھنگ آ گیا !"

" جسے ! دوسروں کے لیے جینے کا ڈھنگ آ گیا !" جب بھی سوچتا ہوں کہ ایک دن یہ دنیا چھوڑ جانا ہے تو دل مطمعن ہو جاتا ہے کہ چلو میرے بہت سارے بھائی اب ایسے ہیں، جنھیں اللہ عزوجل کے فضل سے دوسروں کے لیے جینے کا ڈھنگ آ چکا ہے۔۔ انھی سینکڑوں بھائیوں میں سے ایک شاکر خان بھی ہیں، جسے دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔۔ دعا ہے۔۔ میرے سارے بھائی سلامت رہیں، شاد رہیں۔۔ خان اعظم ! تمھیں اور تمھارے لعل کو دنیا میں آنے کا دن مبارک ہو۔۔ جب تک جیو، ممتاز ہو کر جیو۔۔ _____ موساز _____

" آج ! گورنمنٹ ہائی سکول غنڈی !"

" آج ! گورنمنٹ ہائی سکول غنڈی !" الحمداللہ رب العالمین۔۔ آج اپنے استاد محترم جناب سید عطا محمد شاہ مرحوم کو خراج تحسین پیش کرنے، موساز کارواں (شاکر خان، ثمر عباس، طارق اقبال خان نیازی، قمرالحسن بھریوں زادہ، میں اور آپ سب) گورنمنٹ ہائی سکول غنڈی پہنچا۔۔ نوجوان اور متحرک اساتذہ کرام اور پاکستان کے اجلے چہروں سے ملاقات ہوئی۔۔ انقلاب بذریعہ قلم کتاب پر زور دیا گیا اور یہ عہد کیا گیا کہ اپنے گھر سے، اپنے ضلع سے، اپنے صوبہ سے، اپنے ملک سے، غربت اور جہالت کو ہم سب مل کر تعلیم کے ہتھیار سے شکست دیں گے، ان شاءاللہ۔۔ اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اشرف المخلوقات ہونے کی وجہ سے، اللہ عزوجل کے فضل سے، ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں اور ناممکن کا لفظ ہمارے لیے نہیں ہے۔۔ وہاں موجود سارے نوجوانوں نے اپنے ماں باپ، اپنے اساتذہ کرام اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے کا وعدہ کیا۔۔ تمام اساتذہ کرام نے سید عطا محمد شاہ مرحوم کو خوب سلام پیش کیا اور ان کے نقش قدم پر چل کر اپنے علاقہ کے غریب و نادار طالبعلموں کی زندگیوں میں حقیقی انقلاب لانے کا ارادہ بھی کیا۔۔ ہم سب موساز کے پلیٹ فارم سے گورنمن...

" معلم کا جو مقام، میں نے دیکھا ہے !

" معلم کا جو مقام، میں نے دیکھا ہے ! جناب منور علی ملک صاحب کے، عصمت گل خٹک بھائی جان کی پوسٹ پر، ایک خوبصورت ترین کمنٹ کے جواب میں۔۔۔ استاد زی وقار ! میں تو بس کوشش کر رہا ہوں کہ معلم کا جو مقام میں نے دیکھا ہے۔۔۔ معلم کے اسی مقام سے اپنے ارد گرد رہنے والے سب لوگوں کو متعارف کرا دوں۔۔۔ ایک سچا معلم، اللہ کے فضل سے کیا کیا کر سکتا ہے۔۔۔ میں نے ایسے دیکھا ہے، جیسے ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں۔۔۔ میں اپنے والدین اور اپنے اساتذہ کرام کے قدموں کی خاک بن کر جینے کی تمنا لیے پھرتا ہوں۔۔۔ دعا کیجیے۔۔ میری یہ تمنا پوری ہو جائے، آمین۔۔ _____ موساز _____

وہ عجیب سی شام تھی

وہ عجیب سی شام تھی بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں سگرٹ ہونٹوں تک آیا ۔۔۔ پلکیں بھنچ گئیں۔۔۔ ماتھے کی افقی لکیریں آفاقی ہو گئیں۔۔۔ ساون* بھی برس رہا تھا۔۔۔ دھویں کے بادل فضا میں بکھیرتے اس درویش کی آواز گونجی۔۔۔ "میرے بہت سے بزرگ دوست تھے۔۔۔ بزرگوں کی دوستی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، میں ۔۔اور ارشد وٹو لائبریریاں گھنگالتے۔۔۔ کتابیں پڑھتے ۔۔۔اچھے لکھنے والوں سے ملتے ۔۔ میرے بہت سے دوست عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے پھر میں نے زیادہ عمر کے لوگوں سے دوستیاں ترک کر دیں" یہ کہتے ہوئے درویش کی آنکھوں میں نمی اتر آئی قبل اس کے کہ میں پوچھتا کہ۔۔۔کیوں ترک کیں دوستیاں۔۔۔ درویش کی آواز نے لمحاتی سناٹے کو توڑا۔۔ ہمممممم۔۔۔۔ وہ مر جاتے تھے۔۔۔ بزرگ دوست مر جاتے تو میں بھی مر جاتا تھا ۔۔۔ پھر میں نے صرف نوجوانوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کیا۔۔۔ وہ اذیت سہنا ۔۔۔ بہت کرب انگیز تھا "شاکر ،تم سمجھ رہے ہو نا؟" جی جی۔۔۔ جی بھائی۔۔۔ کالاباغ میں کوٹ چاندنہ کی سمت بڑھتے رستے پہ ایک عام سے ریسٹورنٹ کے کشادہ کمرے میں اس درویش نے اتنی باتیں ۔۔ خلوص کا ریپر کر کے میری ذہن کی جھولی میں پھین...

" پاک سرزمین شاد باد، آج الحرا کالج قائد آباد !"

" پاک سرزمین شاد باد، آج الحرا کالج قائد آباد !" پاکستان کے اجلے چہرے دیکھنے، آج موساز ٹیم الحرا کالج قائد آباد پہنچی۔۔ اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کرنے اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے بعد، والدین ، اساتذہ کرام اور انسانیت سے محبت کرنے والوں کو خوب خراج تحسین پیش کیا گیا۔۔ نوجوانوں کو اپنے ماں باپ، اپنے اساتذہ کرام اور اپنے معاشرہ کے لیے قابل رشک اور قابل فخر بننے کی ترغیب دی گئی۔۔ آخر میں ہم سب نے مل کر یہ عہد کیا کہ اپنے ملک سے غربت اور جہالت کے اندھیروں کو علم کی روشنی سے مات دیں گے، ان شاءاللہ۔۔ الحرا کالج کے جملہ اساتذہ کرام اور طلباء کرام کے چمکتے چہرے دیکھ کر، پاکستان کا مستقبل روشن روشن نظر آیا۔۔ قائد کا وطن آباد رہے قائد آباد، آباد رہے۔۔ _____ موساز _____
" یہ انتظار ہے یا زندگی سے فرار ہے !" موسی ایک ہوٹل پہ بیٹھا لڈو کھیل رہا تھا۔۔ اسے میٹرک کیے ہوئے 3 سال ہو چکے تھے۔۔ اس کے ساتھ عیسی خان، شیرخان اور عیسب خان بھی لڈو کھیل رہے تھے۔۔ وہ سب بھی کافی سال پہلے ایف اے، بی اے کر چکے تھے۔۔ موسی سے جو بھی پوچھتا کہ آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے تو وہ کہتا۔۔ بابا جان نے، فلاں ایم این اے، فلاں ایم پی اے، فلاں کرنل اور فلاں ڈی ایچ او کو میری سند اور ڈومیسائل دیے ہوئے ہیں۔۔ بہت جلد کہیں نہ کہیں سے ملازمت کی کال آ جائے گی۔۔ اس کے ماں باپ بھی اسی امید پر قائم تھے، اس لیے سب گھر والے اب موسی کو چند دنوں کا مہمان سمجھ کر خوب مہان نوازی کیا کرتے تھے کہ کیا پتہ کب ملازمت مل جائے اور ان کا بیٹا مسافر ہو جائے۔۔ موسی اور اس جیسے ہزاروں نوجوان کئی سالوں سے ایسے ہی انتظار سے گزر رہے تھے اور اپنی زندگی کی قیمتی ترین دن ہوٹلوں، بیٹھکوں، پارکوں میں بیٹھ بیٹھ کر گزار رہے تھے اور کئی تو اب تک اوورایج بھی ہو چکے تھے۔۔ موسی اس زندگی سے فرار والے انتظار سے اکتا چکا تھا۔۔ اس لیے اس نے چائے کا ایک کھوکھا بنا لیا، رب ذوالجلال کو اپ...

" اور پھر ! اسے ، جینے کا راز مل گیا !"

" اور پھر ! اسے ، جینے کا راز مل گیا !" موسی نے اپنے اردگرد روزگار کے لیے اپنے سمیت تقریبا سب کو پریشانی کے عالم میں دائیں بائیں رجوع کرتے پایا۔۔ اور اسی وجہ سے بیچارے لوگوں کو نام نہاد بڑے بڑے لوگوں کو جلسے، دعوتیں، تحائف، پروٹوکول دیتے پایا۔۔ ان کے پیروں میں بچھتے پایا۔۔ ان کی بےتکی باتوں پہ خوامخواہ قہقہے لگاتے پایا۔۔ چونکہ ہم اپنے آپ پر اعتماد نہیں کرتے۔۔ اپنے " رب " کی دی ہوئی خوبیوں پر بھروسہ نہیں کرتے۔۔ اور اپنے " رب " کی عطاوں سے مایوس رہتے ہیں۔۔ اسی لیے نام نہاد بڑے لوگوں کو اپنے ماں باپ سے اور اپنے اردگرد رہنے والے غریب لوگوں سے کئی گنا زیادہ پروٹوکول دینے کے عادی ہو چکے ہیں۔۔ سب سے پہلے موسی نے اپنے رب کو پہچانا۔۔ اپنی خوبیوں کو پہچانا۔۔ اور پھر زور بازو پر بھروسہ کرتے ہوئے مزدوری شروع کر دی۔۔ فقط ایسا کرنے سے ہی موسی اپنے ماں باپ کی آنکھوں کی چمک بنتا چلا گیا اور غریبوں، مسکینوں کی قدر کرنا، اس کی پہچان بنتا چلا گیا۔۔ اب وہ فقط رب ذوالجلال کا گدا تھا۔۔ پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلام تھا۔۔ اپنے ماں باپ کے پاوں کی خاک ت...

#Famous #Personalities

#Famous #Personalities #Nawab #Of #Kalabagh #famous #personalities #aisha #the #world's #most #famous #personality #world #famous #photographers #World #Famous #Personalities    #famous #people #Daud #khel #Mochh #Mianwali #Piplan #mianwali #Isakhel #Chidruu #Awan #Namal #Rekhi #Chakrala #Shahbazkhel #Balokhel #Pakki #shah #mardan #sikandrabad #khairabad #Thathi #sharif #Tarikhel #Samandi #wala #Harnoli  #kundian #chashma #Kalabagh #University #of #Sargodha  #sub #campus #Mianwali #My #Favourite #Hobby #Horse #Riding #Famous #Personalities #Of #World Famous Personalities Pakistan #Famous #Personalities #MianwaliCity #PunjabPakistan #Famous #People# #Of #Pakistan Super Hit Man Famous Personalities Dher Umaid Ali Shah Malik Sammar Abbas Awan Born 21-3-1990 In Dher Umaid Ali Shah From Mianwali Live In Mianwali City I Love My City Kalabagh dher umaid ali shah Famous Personalities Malik Sammar Abbas Mianwali Punjab Pakistan most famous people in histor...