Skip to main content

Doctor Hanif Niazi

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

1997 میں
جب ریت پر
سید عطا محمد شاہ مرحوم کے
پاؤں کے نشانوں پر
پاؤں رکھ کر چلا کرتا تھا تو
یہ دعا کیا کرتا تھا !

اے رب ذوالجلال !
مجھے
اس مرد درویش کے نقش قدم پر
حقیقی معنوں میں چلنے کی توفیق عطا فرما دے
اور اپنے والدین کا ممتاز بیٹا بنا دے, آمین.. 

آج
مجھے لگ رہا ہے
جیسے
اللہ عزوجل نے
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقے
میری ساری دعائیں قبول کر لی ہیں
اور مجھے
دی ریڈر کالج میانوالی کا منیجنگ ڈائریکٹر 
اور قانونی مالک بنا دیا ہے.. 

دعا ہے.. 

اللہ عزوجل 
مجھے
اس مقدس شعبے میں
اپنے اساتذہ کرام,
اپنے والدین
اور اپنے محسنوں کی عزت میں اضافے کا باعث بنا دے
اور میانوالی کے لیے
بہترین اور منفرد کردار
ادا کرنے کی توفیق عطا فرما دے, آمین.. 

آپ سب کی
دعائیں اور حوصلہ افزائی ہی
میری جرأت ہیں !  میرا تعارف ہیں !



Comments

Popular posts from this blog

وہ عجیب سی شام تھی

وہ عجیب سی شام تھی بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں سگرٹ ہونٹوں تک آیا ۔۔۔ پلکیں بھنچ گئیں۔۔۔ ماتھے کی افقی لکیریں آفاقی ہو گئیں۔۔۔ ساون* بھی برس رہا تھا۔۔۔ دھویں کے بادل فضا میں بکھیرتے اس درویش کی آواز گونجی۔۔۔ "میرے بہت سے بزرگ دوست تھے۔۔۔ بزرگوں کی دوستی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، میں ۔۔اور ارشد وٹو لائبریریاں گھنگالتے۔۔۔ کتابیں پڑھتے ۔۔۔اچھے لکھنے والوں سے ملتے ۔۔ میرے بہت سے دوست عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے پھر میں نے زیادہ عمر کے لوگوں سے دوستیاں ترک کر دیں" یہ کہتے ہوئے درویش کی آنکھوں میں نمی اتر آئی قبل اس کے کہ میں پوچھتا کہ۔۔۔کیوں ترک کیں دوستیاں۔۔۔ درویش کی آواز نے لمحاتی سناٹے کو توڑا۔۔ ہمممممم۔۔۔۔ وہ مر جاتے تھے۔۔۔ بزرگ دوست مر جاتے تو میں بھی مر جاتا تھا ۔۔۔ پھر میں نے صرف نوجوانوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کیا۔۔۔ وہ اذیت سہنا ۔۔۔ بہت کرب انگیز تھا "شاکر ،تم سمجھ رہے ہو نا؟" جی جی۔۔۔ جی بھائی۔۔۔ کالاباغ میں کوٹ چاندنہ کی سمت بڑھتے رستے پہ ایک عام سے ریسٹورنٹ کے کشادہ کمرے میں اس درویش نے اتنی باتیں ۔۔ خلوص کا ریپر کر کے میری ذہن کی جھولی میں پھین...

وسیب کے رنگوں میں رنگے سرائیکی وسیب

 #ماہرتعلیم_پروفیسرسرورنیازی_کا_اردو_ناول_کچہ_اشاعت_کے_آخری_مراحل_میں پروفیسرسرور خان نیازی کا شمار شعبہ تعلیم میں میانوالی کے نامور اہل علم اور بزرگ اساتذہ میں ہوتا ہے جو اپنی سادہ طبیعت، علم و ہنر سے وابستگی اور اعلی ذوق کی وجہ سے شعبہ تعلیم میں نمایاں مقام رکھتے ہیں وہیں باذوق طبیعت کے مالک اور اچھے مصنف اور رائٹرہیں جو سرائیکی وسیب اور میانوالی کی ثقافت سے والہانہ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں جس کا اظہار وہ اپنے جلد آنے والے اردو ناول " کچہ" جو کہ طباعت کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے میں خوبصورت انداز میں کرتے ہیں ان کا اردو ناول "کچہ" جلد ہی طباعت کے مراحل سے ہو کر میانوالی اور بھکر کی علاقہ کچہ کی ثقافت کا امین یہ شہکار ناول وسیب سے عقیدت و محبت کرنے والے عشاق کے دلوں کو منور کرنے کے لیے ان کے ہاتھوں میں ہو گا اس ناول کی کہانی احاطہ کرتی ہے ان خاندانوں کا جو چشمہ بیراج کی تعمیر کے ہاتھوں اجڑے اور غم کی دستان ہے ان بچھڑے خاندانوں کی جو ہنستے بستے گھروکو چھوڑ کر دور دیسوں کے باسی ٹھہرے ذکر ہے ان کچہ کے وانڈوں دیہاتوں کا جہاں کبھی خوشیاں رقص کرتیں تھی مگر اب داست...

پاکستانی اداکارہ مایا علی

مریم تنویر اپنے اسٹیج کا نام مایا علی (اردو: مایا علی) کے نام سے جانی جاتی ہے ،  ایک پاکستانی اداکارہ ، ماڈل اور وی جے ہیں ، زیادہ تر وہ پاکستانی ٹیلی وژن سیریل اور فلمی صنعت میں اپنے کرداروں کے لئے جانا جاتا ہے۔ اس نے علی ظفر کے برخلاف پریشانی میں 2018 کی ایکشن ڈرامہ فلم تیفا سے اپنی فلمی شروعات کی ، اور اس کی پیروی شیر یار منور کے مقابلہ میں سنہ 2019 میں رومانٹک-مزاحیہ فلم پیری ہٹ محبت میں مرکزی کردار کے ساتھ کی ، یہ دونوں تجارتی لحاظ سے کامیاب رہی اور سابقہ ​​کمائی لکس اسٹائل ایوارڈز میں بہترین اداکارہ کے لئے ان کی  نامزدگی۔   مایا علی 2016 میں سیف الملک میں پیدا ہوا مریم تنویر 27 جولائی 1989 (عمر 31) [1] لاہور ، پنجاب ، پاکستان قومیت پاکستانی الما میٹر کوئین میری کالج ، لاہور پیشہ اداکارہ ، ماڈل ، وی جے ، میزبان سال فعال 2012 – موجودہ مایا علی مریم تنویر علی  کی حیثیت سے 27 جولائی 1988 کو پاکستان ، لاہور ،  میں پیدا ہوئیں۔  مایا  علی نے کوئین میری کالج ، لاہور سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی تعلیم مکمل کی۔ علی پھر وی جے بن گیا۔ مایا علی کھیلوں میں ...